مرادآباد، 27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہشت گردی کے مبینہ الزام کے تحت مسلم نوجوانوں کی گرفتاری بڑھتی ہی جا رہی ہے ، جب کہ ان گرفتار شدہ افراد کو عدالت کے ذریعہ باعزت رہائی بھی مل چکی ہے،اس کی حالیہ مثال مولانا انظر شاہ کی رہائی ہے ۔ تاہم ممنوعہ گروپ سے تعلق کے شبہ پر اترپردیش میں مرادآباد کے مغل پور علاقہ میں آج صبح سویرے لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق فرحان احمد نام کے اس شخص کو کل دیر رات گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے دعوے کے مطابق اس کے پاس سے فرضی راشن کارڈ، پین کارڈ اور پاسپورٹ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ واضح ہوکہ فرحان احمد کو سازش کرنے کے الزا م میں پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا ، مگر دہلی ہائی کورٹ نے اس کو اس کیس سے باعزت بری کردیا تھا۔ تاہم عدالت نے اس کے بیرون ملک جانے پر روک لگائی تھی۔ اب اس پر فرضی پاسپورٹ کے ذریعہ کویت جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اس سے پوچھ گچھ کررہی ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ فرحان سدھارتھ نگر کا رہنے والا ہے۔ الزامات کے مطابق وہ لشکر طیبہ کا سرگرم رکن ہے اور وہ مرادآبادمیں رہ رہا تھا۔ یہاں اس نے فرحان علی احمد کے نام سے فرضی پاسپورٹ اور راشن کارڈ بھی بنوا لیا تھا۔ فرضی پاسپورٹ کی بنیاد پر وہ کویت بھی گیا تھا ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا کنبہ بھی کویت میں رہتا ہے۔